لکھنؤ،24؍جون(ایس او نیوز؍یواین آئی) بابری مسجد-رام مندرمتنازع اراضی ملکیت معاملے میں مسجد کے اہم فریق جمعیت علماء ہندکے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کے نام پر اس کیس میں ایڈوکیٹ آن ریکاڑ اعجاز مقبول کے ذریعہ مبینہ فیس لینے کے معاملے میں جمعیت کے موقف میں کافی تردد ہے جس نے معاملے کو مزید پیچیدہ کردیاہے -سپریم کورٹ کے معروف وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کے ذریعہ بابری مسجد کا کیس مفت میں لڑنے کی بات سرزدعام ہے- لیکن سپریم کورٹ کے وکیل اور بابری مسجد معاملے میں کبھی جمعیت کے وکیل رہے ارشاد حنیف نے الزام لگایا ہے کہ اعجاز مقبول نے راجیودھون کے نام پر جمعیت سے خطیر رقم لی ہے - ڈاکٹر دھون کے فیس کے نام پر جمعیت سے رقم جاری کی گئی لیکن وہ راجیو دھون تک نہیں پہنچی-ملحوظ رہے کہ بابری مسجد معاملے میں اعجاز مقبول ایڈوکیٹ آن ریکارڈ تھے اور وہی راجیو دھون کی معاونت کررہے تھے اور جمعیت نے انہیں کے توسط سے ڈاکٹر دھون کو اس کیس سے وابستہ کیا تھا- حنیف نے اس ضمن میں حلفیہ بیان دینے کی صراحت کے ساتھ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ڈاکٹر دھون سے جمعیت سے ان کی فیس جاری ہونے کا ذکر کیا تھا تو ڈاکٹر دھون نے کافی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے برجستہ کہا تھا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟-حنیف کے بقول انہوں نے ڈاکٹر دھون کی آفس میں ہی اس ضمن میں راجیودھون اور جمعیت علماء کے صدرمولانا سید ارشدمدنی سے کال کانفرنسنگ کرائی تھی، جس کے بعد ڈاکٹر دھون نے انہیں جمعیت سے ان کی فیس ادائیگی کی رسیدیں ان تک پہنچانے کو کہا تھا-وہ کہتے ہیں لیکن بعد میں جب ہم رسیدیں لانے جمعیت پہنچے تو انہوں نے اس ضمن میں ڈاکٹر دھون سے بات کرلینے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں درکنار کردیا-